کولکاتہ، 13 جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال میں زبردست انٹری ماری ہے۔بی جے پی کی جیت کے بعد سے ہی ٹی ایم سی کے کونسلر اور ممبران اسمبلی کا پارٹی میں آنا شروع ہو گیا ہے،اب پارٹی لیڈر مکل رائے کا دعوی ہے کہ جلد ہی کانگریس، ٹی ایم سی اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے 107 رکن اسمبلی بی جے پی میں شامل ہوں گے۔آپ کو بتا دیں کہ مکل رائے خود بھی پہلے ٹی ایم سی میں ہی تھے اور ٹی ایم سی چیف ممتا بنرجی کے کافی قریبی مانے جاتے تھے۔ہفتہ کو مکل رائے نے کہاکہ سی پی ایم، کانگریس اور ٹی ایم سی کے 107 رکن اسمبلی بی جے پی جوائن کریں گے،ہم نے فہرست تیار کر لی ہے اور وہ تمام ہمارے رابطہ میں ہیں۔ غور طلب ہے کہ مغربی بنگال میں اسمبلی کی کل 294 نشستیں ہیں،2016 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں ٹی ایم سی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی اور اسے 211 سیٹیں ملی تھیں۔دوسرے نمبر پر رہی کانگریس کو 44 اور تیسرے نمبر پر رہی سی پی ایم کو 26 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی۔بی جے پی کو صرف تین سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی۔مغربی بنگال میں اکثریت کے لئے 148 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہے۔ایسے میں اگر 107 رکن اسمبلی بی جے پی میں شامل ہو بھی جاتے ہیں، تب بھی ممتا بنرجی کی حکومت بچی رہ سکتی ہے۔